بلوچستان کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں طلبا کو جسمانی سزا دینے پر مکمل پابندی عائد، محکمہ تعلیم کا سخت قانونی کارروائی کا انتباہ
کوئٹہ:
محکمہ تعلیم بلوچستان نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبا کے حقوق کے تحفظ اور محفوظ ماحول کی فراہمی کیلئے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ کیا ہے۔ جاری کردہ باقاعدہ اعلامیے کے مطابق، بلوچستان کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں طلبا کو جسمانی سزا دینے پر فوری اور مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق، حالیہ عرصے کے دوران صوبے کے بعض تعلیمی اداروں سے بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا کے ناخوشگوار واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو نہ صرف بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں بلکہ اسکولوں کے مجموعی تعلیمی ماحول کو بھی شدید متاثر کر رہے تھے۔ اسی تناظر میں محکمہ تعلیم نے سخت موقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں طلبا پر تشدد یا کسی بھی قسم کی جسمانی سزا کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ تعلیم بلوچستان نے تمام اسکولوں کی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اداروں میں بچوں کے لیے ایک محفوظ، باعزت، اور مثبت تعلیمی ماحول کو یقینی بنائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تزویراتی فیصلے کا بنیادی مقصد طلبا کے بنیادی حقوق کا تحفظ، ان کی ذہنی و جسمانی صحت کا خاص خیال رکھنا، اور روایتی سزا کے نظام کے بجائے جدید اصلاحی اور مثبت تربیتی طریقہ کار کو فروغ دینا ہے تاکہ طلبہ بغیر کسی خوف کے تعلیم حاصل کر سکیں۔