سوات کی خوبصورت اور معروف سیاحتی جھیل سیف اللہ مہوڈھنڈ میں کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام چھ افراد کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔ ریسکیو ذرائع اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور کے متمول علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے تھا اور وہ ایک ہی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔
تفصیلات کے مطابق، حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ریسکیو حکام نے جھیل سے 6 لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کیں جہاں ان کی شناخت کا عمل مکمل کیا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خاندان کے بزرگ 65 سالہ محمد عامر، ان کا ایک بیٹا، دو بیٹیاں اور دو کمسن بچے شامل ہیں، جن کی موت پر پورا علاقہ سوگوار ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد سے 25 سالہ بشریٰ بی بی تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے جھیل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں مشترکہ سرچ آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ ریسکیو 1122 کے غوطہ خور اور مقامی رضاکار جدید آلات کی مدد سے جھیل کی گہرائیوں میں لاپتہ خاتون کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے واشگاف الفاظ میں ریمارکس دیے ہیں کہ سرچ آپریشن بشریٰ بی بی کا سراغ ملنے تک بلاتعطل جاری رہے گا۔ اس المناک حادثے نے جہاں متاثرہ خاندان کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہاں سیاحتی مقامات پر کشتی رانی کے دوران حفاظتی تدابیر اور لائف جیکٹس کی فراہمی جیسے اہم موضوعات پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔