حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا کا مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارت خانے کا فیصلہ، یہ فیصلہ ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ Home / بین الاقوامی /

امریکا کا مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارت خانے کا فیصلہ، یہ فیصلہ ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ

ایڈیٹر - 02/07/2026
امریکا کا مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارت خانے کا فیصلہ، یہ فیصلہ ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ

امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں مستقل سفارت خانے کی تعمیر کے منصوبے کو عملی شکل دیتے ہوئے زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے۔ اس پیش رفت کو واشنگٹن اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈئین سار اور اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے معاہدے پر دستخط کیے اور اسے باضابطہ طور پر پیش کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکا مقبوضہ بیت المقدس کو یہودی عوام کا تاریخی اور مستقل دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔ ان کے مطابق نئے سفارتی کمپلیکس کی تعمیر کے بعد امریکی سفارت خانہ اسرائیل میں اپنی تمام اہم سفارتی سرگرمیاں اسی مقام سے انجام دے گا۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈئین سار نے اس معاہدے کو امریکا اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں اتحادی ممالک کے باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کرے گا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق نیا امریکی سفارت خانہ جنوبی مقبوضہ بیت المقدس کے ایلنبی کمپاؤنڈ میں تعمیر کیا جائے گا، جہاں جدید سفارتی کمپلیکس قائم کیا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم "عدالہ" نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانے کی تعمیر بین الاقوامی قوانین اور فلسطینیوں کے تاریخی حقوق سے متصادم اقدام ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے حساس اور متنازع علاقے کی حیثیت رکھتا ہے۔ فلسطینی قیادت مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیل پورے شہر پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور میں دسمبر 2017 میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔