پاکستان اور قطر کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دونوں ممالک نے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت کے اگلے مرحلے پر پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، جن میں گزشتہ ماہ طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد کیا جائے گا، تاہم نئی نشست ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی 9 جولائی کو ہونے والی تدفین کے بعد متوقع ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ دوحہ مذاکرات مثبت ماحول میں مکمل ہوئے، جہاں دونوں فریقوں نے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا، جسے رواں ہفتے فعال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں لبنان کی صورت حال اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ان کے مطابق قطری حکام اور مرکزی بینک کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں ایران کے منجمد چھ ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے ابتدائی رقم کو انسانی ضروریات کی اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کرنے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری سیاسی بحث پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو امریکا کے ساتھ مذاکرات سے نہیں روکا، اور اگر ایسی کوئی ہدایت جاری کی جاتی تو حکومت اس پر مکمل عمل کرتی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکراتی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والی پیش رفت بھی حوصلہ افزا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس سفارتی عمل کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بحال کرنا اور حالیہ کشیدگی کے بعد خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی توجہ اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی پر مرکوز رہی، جبکہ امریکا عالمی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات براہِ راست نہیں ہوئے بلکہ پاکستان اور قطر کی ثالثی کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا، تاہم سفارتی حلقے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔