صوابی: والد کی وفات پر جرمنی سے وطن واپس آنے والا 33 سالہ نوجوان معمولی تکرار پر قتل، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا
صوابی ( حسبان میڈیا): خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے کرنل شیر خان کلے میں ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں اپنے والد کے انتقال پر تعزیت اور جنازے میں شرکت کے لیے جرمنی سے پاکستان واپس آنے والے 33 سالہ نوجوان کو معمولی تلخ کلامی پر فائرنگ اور چاقو کے وار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جبکہ اس کا بھتیجا شدید زخمی ہو گیا ہے۔
حسبان میڈیا کو تھانہ کالوخان پولیس سے موصول ہونے والی ایف آئی آر (FIR) کی تفصیلات کے مطابق، مقتول واقف خان، جو کہ جرمن نیشنلٹی ہولڈر تھے، اپنے والد کی وفات پر حال ہی میں وطن واپس پہنچے تھے۔ مقتول اپنے زخمی بھتیجے تاجدار (سکنہ بنگوارہ، کرنل شیر خان کلے) کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر شیوہ اڈہ بازار سے ضروری سامان خریدنے جا رہے تھے۔ اس دوران جب وہ ہم جہانگیر پورہ کے مقام پر پہنچے، تو محلہ سلطان آباد کے رہائشی مسمی نتکیال نے تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے ان کا راستہ کاٹا۔ مقتول اور ان کے بھتیجے کی جانب سے گاڑی آہستہ چلانے کا کہنے پر ملزم طیش میں آ گیا اور بحث و تکرار شروع کر دی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، کچھ ہی دیر بعد ملزم کا بھائی شاہ سوار دو نامعلوم مسلح افراد کے ہمراہ چھری اور پستولوں سے لیس ہو کر جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ ملزمان نے آتے ہی مقتول اور ان کے بھتیجے پر لاتوں، گھونسوں اور پستول کے بٹوں سے شدید تشدد کیا۔ اسی دوران ملزم شاہ سوار نے طیش میں آ کر 33 سالہ واقف خان پر چھری سے پے در پے وار کر دیے، جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ تھانہ کالوخان پولیس نے زخمی بھتیجے کے بیان پر ملزمان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔