چترال کے بالائی اور زیریں علاقوں میں گزشتہ شام سے شروع ہونے والی طوفانی بارشوں نے بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے باعث اپر اور لوئر چترال میں شدید تباہی مچی ہے۔ پہاڑی نالوں سے آنے والے تند و تیز سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر متعدد رہائشی مکانات، مساجد، پینے کے صاف پانی کی سپلائی لائنز، کھڑی فصلیں اور باغات ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر رابطہ سڑکیں بند ہونے سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اپر چترال کے علاقے یارخون شیچ میں دیکھا گیا ہے، جہاں تباہ کن سیلابی ریلے اپنے ساتھ زرخیز زمینیں، باغات اور پختہ و کچے مکانات بہا لے گئے۔ سیلاب کے باعث علاقے میں آبپاشی کا نظام اور پینے کے پانی کی اہم ترین پائپ لائنیں مکمل طور پر تباہ (ڈیمیج) ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
سیلاب کی اس ناگہانی آفت کے بعد متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور ہنگامی امداد فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ علاقہ مکینوں کا مطالبہ ہے کہ یارخون شیچ اور دیگر متاثرہ دیہاتوں میں پھنسے ہوئے شہریوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پینے کے صاف پانی اور راشن کا انتظام کیا جائے، اور بند سڑکوں کو کھولنے کے لیے بھاری مشینری فوری روانہ کی جائے تاکہ امدادی کارروائیاں تیز کی جا سکیں۔