واشنگٹن: یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کے بعد اب امریکا کو بھی شدید موسمی لہر کا سامنا ہے۔ امریکی محکمہ موسمیات نے ملک کی متعدد ریاستوں کے لیے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق امریکا کی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں رواں ہفتے درجہ حرارت اڑتیس ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ کئی علاقوں میں معمول سے کہیں زیادہ گرمی محسوس کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ شدید لہر کئی روز تک برقرار رہ سکتی ہے اور آئندہ جمعہ، جب امریکا میں یومِ آزادی کی تعطیلات کا آغاز ہوگا، اس دوران گرمی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ منگل سے ہفتے کے درمیان متعدد شہروں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو سکتے ہیں یا ماضی کے ریکارڈ برابر ہونے کا امکان ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق شدید گرمی ملک میں سب سے خطرناک موسمی آفات میں شمار ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر سال گرمی سے ہونے والی اموات کی تعداد بگولوں، سمندری طوفانوں اور آسمانی بجلی جیسے دیگر موسمی حادثات سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
ادھر امریکی محکمہ موسمیات نے مغربی علاقوں میں جنگلات میں آگ بھڑکنے کے خطرات بڑھنے کی بھی وارننگ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مکمل تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔
دوسری جانب یورپ میں بھی شدید گرمی کا سلسلہ برقرار ہے۔ مختلف ممالک میں آئندہ کئی روز تک درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بلند رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران یورپ میں تیرہ سو سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک فرانس اور اسپین شامل ہیں۔
اٹلی کے متعدد شہروں میں شدید گرمی کا ریڈ الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت کئی یورپی ممالک میں ریلوے اور دیگر سفری نظام بھی متاثر ہوئے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث اس وقت تقریباً پندرہ کروڑ افراد شدید گرمی کے اثرات سے متاثر ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث شدید گرمی کی لہریں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار اور زیادہ شدت سے سامنے آ رہی ہیں، جبکہ کئی ممالک کا بنیادی ڈھانچہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔