کیف: روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر ایک بار پھر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق حملوں میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مجموعی طور پر چونتیس افراد زخمی ہوئے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ نقصان کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں انتہائی ہولناک قرار دیا۔ ان کے مطابق دنیپرو شہر میں ہونے والے میزائل حملے میں کم از کم پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ اٹھائیس افراد زخمی ہوئے۔
صدر زیلنسکی نے بتایا کہ روسی حملوں کا دائرہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہا بلکہ سومی، اوڈیسا، خیرسون اور خارکیف سمیت کئی دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ادھر زاپوریژژیا میں ڈرون حملے کے نتیجے میں مزید تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب روسی صدارتی دفتر کریملن نے یوکرین کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برس پیش کی گئی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مطابق یوکرین کو ان چار علاقوں سے اپنی افواج واپس بلانا ہوں گی جنہیں روس اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ شمالی اوقیانوسی دفاعی اتحاد میں شمولیت کے ارادے بھی ترک کرنا ہوں گے۔
ولادیمیر پیوٹن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس ان علاقوں پر مکمل کنٹرول کے اپنے ہدف پر قائم ہے اور یوکرین کی جانب سے جنگ کو محدود کرنے سے متعلق پیش کی گئی تجویز کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
تازہ حملوں اور سخت بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق سفارتی کوششیں تاحال کسی نمایاں پیش رفت سے محروم دکھائی دے رہی ہیں۔