اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں غلط معلومات فراہم کیے جانے پر وفاقی ادارۂ محصولات کے چیف آپریشنز کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کمیٹی نے انہیں اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کر دی۔
ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف امور کے علاوہ انمول پنکی کیس کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے وفاقی ادارۂ محصولات کے بعض افسران کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات فراہم کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند افسران کی وجہ سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور ایسے رویے کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی متعلقہ ادارے کو جواب دہی کے لیے طلب کیا جاتا ہے تو تعاون کے بجائے مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم سے مطالبہ کریں گے کہ ایسے افسران کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
اجلاس میں سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام، جن میں جنوبی زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اسد رضا بھی شامل تھے، نے کمیٹی کو انمول پنکی کیس سے متعلق بریفنگ دی۔
کمیٹی نے انمول پنکی کیس کی مکمل تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ تفتیش کی جائے اور حقائق سامنے لائے جائیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے دوران فراہم کیے گئے غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملزمہ کو جس سطح کا پروٹوکول دیا گیا، وہ غیر معمولی دکھائی دیتا ہے۔
اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو شاید آئندہ برس انمول پنکی کو صدارتی اعزاز بھی دے دیا جائے۔
کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کیس کی شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔