حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز بند نہ ہو سکی، مگر بحری ٹریفک متاثر Home / بین الاقوامی /

حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز بند نہ ہو سکی، مگر بحری ٹریفک متاثر

ایڈیٹر - 30/06/2026
حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز بند نہ ہو سکی، مگر بحری ٹریفک متاثر

آبنائے ہرمز میں حالیہ سیکیورٹی خدشات اور بحری حملوں کے باوجود تجارتی جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل نہیں ہوئی، تاہم اس اہم آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے نے بتایا ہے کہ حالیہ حملوں کے باوجود ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک جاری رہی، اگرچہ معمول کے مقابلے میں جہازوں کی تعداد کم رہی۔

ادارے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران ایک سو آٹھ بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرے۔ ان میں جمعہ کے روز سب سے زیادہ اڑتالیس جہاز، ہفتے کو اڑتیس جبکہ اتوار کو بائیس جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ کشیدگی سے قبل بحری سرگرمیاں زیادہ تھیں۔ اس سے پہلے کے دنوں میں روزانہ پچاس سے ستر جہاز اس راستے سے گزر رہے تھے، جبکہ تنازع شروع ہونے سے پہلے یومیہ ایک سو تیس سے ایک سو چالیس جہاز آبنائے ہرمز استعمال کرتے تھے۔

دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی معاملات پر مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے مختلف تجاویز اور انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تہران اور مسقط اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام کے حوالے سے مشترکہ سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور آئندہ مرحلے میں تکنیکی سطح پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔

ان کے مطابق دونوں ممالک ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں گے، جو آئندہ چند روز میں مجوزہ انتظامی ڈھانچے، بحری راستوں اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی مشاورت کریں گی۔

ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کے انتظام اور اس سے متعلق ممکنہ سروس فیس کا معاملہ بھی ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کا ایک اہم نکتہ بن چکا ہے۔ ایران اس حوالے سے عمان کے ساتھ مل کر نئی انتظامی حکمت عملی کا خواہاں ہے، جبکہ امریکا اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتا۔

ادھر عمان نے واضح کیا ہے کہ اس وقت بحری جہازوں سے گزرنے کی کوئی نئی فیس وصول کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا، البتہ ساحلی حدود کے قریب بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک عارضی بحری راہداری قائم کرنے پر کام جاری ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی برادری اور بین الاقوامی بحری تجارتی ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔