حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ای ون منصوبہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑی روکاوٹ ہے،اسرائیلی آبادکاری پر پاکستان کا بڑا مؤقف، عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ Home / پاکستان /

ای ون منصوبہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑی روکاوٹ ہے،اسرائیلی آبادکاری پر پاکستان کا بڑا مؤقف، عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ

ایڈیٹر - 30/06/2026
ای ون منصوبہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑی روکاوٹ ہے،اسرائیلی آبادکاری پر پاکستان کا بڑا مؤقف، عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے فلسطینی عوام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل کے متنازع آبادکاری منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا اور اسے مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ قرار دیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس پر عالمی برادری کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے کئی ارکان نے بھی فلسطینی علاقوں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عاصم افتخار کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ فلسطینی شہریوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کے واقعات بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ای ون منصوبہ فلسطینی علاقوں کے باہمی جغرافیائی رابطے کو متاثر کرے گا، جس کے نتیجے میں دو ریاستی حل کی بنیاد مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ علاقوں میں ہزاروں نئے رہائشی یونٹس کی منظوری خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے اور یہ پیش رفت امن کوششوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے مالی وسائل محدود کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے فلسطینی اداروں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے اور انتظامی ڈھانچہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے، فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں منصفانہ و پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے متنازع ای ون منصوبے کے تحت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان ہزاروں نئے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے، جس پر عالمی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔