خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے انتظامیہ نے انکاری والدین اور بالخصوص سرکاری ملازمین کے خلاف سخت ترین قانونی و انتظامی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کی جانب سے ایسے تمام سرکاری ملازمین کا تفصیلی ڈیٹا دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں ایسے والدین کی تفصیلات یکجا کی جا رہی ہیں جنہوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے معذرت کی ہے۔ ان تفصیلات میں دیکھا جائے گا کہ ان ملازمین کا تعلق کن سرکاری شعبوں سے ہے اور وہ کن عہدوں پر کام کر رہے ہیں، تاکہ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
دوسری جانب، محکمہ صحت کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری متعدد افغان مہاجر والدین کارروائی کے خوف یا دیگر وجوہات کی بنا پر سرحد پار افغانستان منتقل ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسے والدین جو عمرے پر روانہ ہو رہے ہیں، انہوں نے خود پولیو کے قطرے پی لیے ہیں اور انہیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی جانب سے باقاعدہ پولیو کارڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔ پشاور اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے انکاری والدین کی اس دستاویزی تصدیق کے بعد مہم کو مزید منظم انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔