حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
لبنان میں امن معاہدے پر ہنگامہ، حزب اللہ نے خانہ جنگی کے خطرے کی گھنٹی بجا دی Home / بین الاقوامی /

لبنان میں امن معاہدے پر ہنگامہ، حزب اللہ نے خانہ جنگی کے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایڈیٹر - 27/06/2026
لبنان میں امن معاہدے پر ہنگامہ، حزب اللہ نے خانہ جنگی کے خطرے کی گھنٹی بجا دی

بیروت: لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے نئے فریم ورک معاہدے کے خلاف دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے حامی سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ تنظیم کے ایک سینئر رہنما نے خبردار کیا ہے کہ متنازع معاہدے پر عمل درآمد ملک کو داخلی بحران اور خانہ جنگی کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جمعے کی شب حزب اللہ کے حامی موٹر سائیکلوں کے قافلوں کی صورت میں بیروت کی مختلف شاہراہوں اور اہم علاقوں میں پہنچے اور معاہدے کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے ہوائی اڈے جانے والی مرکزی سڑک سمیت متعدد مقامات پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔

صورتحال کے پیش نظر لبنانی فوج نے دارالحکومت کے کئی حساس علاقوں میں عارضی چیک پوسٹیں قائم کر دیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔

دوسری جانب امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر حزب اللہ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے رہنما اور لبنانی پارلیمان کے رکن حسن فضل اللہ نے کہا کہ حالیہ پیش رفت خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے اور ان کی جماعت اس عمل کو قبول نہیں کرے گی۔

حسن فضل اللہ نے کہا کہ اگر لبنانی حکومت نے ایسے اقدامات کیے جو حزب اللہ کے مؤقف سے متصادم ہوں تو تنظیم بھرپور سیاسی اور عوامی ردعمل دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گی اور ایسے فیصلوں کی مخالفت کرے گی جنہیں وہ لبنان کے مفادات کے خلاف سمجھتی ہے۔

ادھر واشنگٹن میں امریکا، لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے سہ فریقی معاہدے کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ لبنان میں استحکام اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک محفوظ اور پرامن مستقبل کے حق دار ہیں۔

لبنان کے سفارتی حلقوں نے بھی اس معاہدے کو ملک کی خودمختاری اور سیاسی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم حزب اللہ کی سخت مخالفت نے واضح کر دیا ہے کہ داخلی سطح پر اس معاملے پر شدید اختلافات موجود ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت اور حزب اللہ کے درمیان اختلافات میں شدت آئی تو معاہدے پر عمل درآمد کو سنجیدہ سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔