حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز میں ایران کا دوٹوک مؤقف، تعاون کے بغیر جہازوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز میں ایران کا دوٹوک مؤقف، تعاون کے بغیر جہازوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں

ایڈیٹر - 27/06/2026
آبنائے ہرمز میں ایران کا دوٹوک مؤقف، تعاون کے بغیر جہازوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کے انتظامات یا فیصلوں میں ایران کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت اسی صورت ممکن ہے جب ساحلی ریاست کے طور پر ایران کے کردار اور مؤقف کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ غیر واضح انتظامات، متبادل بحری راستوں یا ایسے اقدامات جن میں ایران کو نظر انداز کیا جائے، ان کے تحت جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

کاظم غریب آبادی کے مطابق اس حوالے سے کسی بھی انتظامی ڈھانچے کی بنیاد ایران کے ساتھ مکمل رابطے اور اسلام آباد یادداشت کی متعلقہ شقوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طے شدہ اصولوں پر عمل نہ کیا گیا تو متبادل بحری گزرگاہوں کی منظوری یا استعمال متاثر ہو سکتا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملات اور عبوری انتظامات پر سفارتی سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں باقر قالیباف کی سربراہی میں ایک ایرانی وفد نے عمانی حکام سے ملاقاتیں کیں، جس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان ٹیلیفون پر بھی مشاورت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی بحری صورتحال کا جائزہ لیا اور رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

دوسری جانب ایرانی خلیجی امور کی اتھارٹی نے بھی جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ بحری راستوں کی پابندی کریں۔ اتھارٹی کے مطابق غیر مجاز راستوں کے استعمال کی صورت میں جہازوں کو سیکیورٹی یا دیگر سہولیات کی کوئی ضمانت حاصل نہیں ہوگی۔

ادھر برطانیہ کی بحری نگرانی سے متعلق ایجنسی نے عمان کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز پر حملے کی اطلاع دی ہے، جس کے بعد خلیجی پانیوں میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اسی صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے نے خلیجی سمندری علاقوں میں جہازوں کی رہنمائی سے متعلق اپنے بعض آپریشنز کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔