نیویارک: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا رجحان برقرار ہے اور تازہ کاروباری سرگرمیوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر تہتر ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل ستر ڈالر فی بیرل کے قریب فروخت ہوتا رہا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت بھی چھیاسٹھ ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے عارضی سمجھوتے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات کم ہونے کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہِ راست اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی عمل میں پیش رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید دباؤ کا شکار رہ سکتی ہیں، جبکہ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو اس صورتحال سے فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال اور آئندہ سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ خطے میں کسی بھی نئی پیش رفت کے عالمی تیل منڈی پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔