وینکوور: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ بی کے اہم مقابلے میں سوئٹزرلینڈ نے میزبان کینیڈا کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی، جبکہ ناک آؤٹ مرحلے میں بھی بھرپور انداز میں جگہ بنا لی۔
وینکوور میں کھیلے گئے میچ کے ابتدائی لمحات میں دونوں ٹیمیں محتاط انداز میں کھیلتی رہیں اور پہلے ہاف میں واضح مواقع کم دیکھنے کو ملے، تاہم سوئس ٹیم نے کھیل پر نسبتاً بہتر کنٹرول برقرار رکھا۔
سوئٹزرلینڈ کے کپتان گرانیت ژاکا نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا ایک سو انچاسواں میچ کھیلا، جبکہ بریل ایمبولو کی ایک خطرناک کوشش کو کینیڈا کے گول کیپر میکسیم کریپو نے عمدہ انداز میں ناکام بنا دیا۔
دوسرے ہاف کے آغاز کے ساتھ ہی سوئٹزرلینڈ نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور چھیالیسویں منٹ میں جوہان مانزامبی کے شاندار کراس پر روبن ورگاس نے گیند جال میں پہنچا کر اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔
برتری حاصل کرنے کے صرف گیارہ منٹ بعد جوہان مانزامبی نے خود بھی گول اسکور کرتے ہوئے سوئس ٹیم کی سبقت دوگنی کر دی۔ اس گول کی تیاری میں بریل ایمبولو نے اہم کردار ادا کیا اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔
میزبان کینیڈا نے میچ میں واپسی کی کوشش کی اور چھہترویں منٹ میں متبادل کھلاڑی پرومس ڈیوڈ نے میدان میں آنے کے محض چند لمحوں بعد ایک خوبصورت حملے کو گول میں تبدیل کر دیا، تاہم کینیڈین ٹیم اس کے بعد مزید کوئی گول نہ کر سکی۔
اس کامیابی کے بعد سوئٹزرلینڈ گروپ بی میں سرفہرست رہا اور اب ناک آؤٹ مرحلے میں اگلے حریف کا سامنا کرے گا۔ اس فتح کے ساتھ سوئس ٹیم نے ایک منفرد اعزاز بھی اپنے نام کیا اور ارجنٹینا اور فرانس کے بعد مسلسل چار عالمی کپ ٹورنامنٹس میں پہلے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرنے والی تیسری ٹیم بن گئی۔
دوسری جانب شکست کے باوجود کینیڈا نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر کے ایک اہم سنگ میل عبور کیا۔
گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے کے بعد کینیڈا اب اگلے مرحلے میں گروپ اے کی رنر اپ ٹیم کے خلاف میدان میں اترے گا، جبکہ اسے بقیہ میچز اپنے ہوم گراؤنڈ کے بجائے امریکا میں کھیلنا ہوں گے۔
فٹبال ماہرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ نے متوازن کھیل، مضبوط دفاع اور مؤثر حملوں کے ذریعے خود کو ٹورنامنٹ کی مضبوط ٹیموں میں شامل کر لیا ہے، جبکہ کینیڈا کی پہلی مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی بھی ملکی فٹبال کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔