حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا۔ایران مفاہمت نے نیتن یاہو تنہا، اسرائیلی قیادت کی سیاسی اور سفارتی مشکلات میں اضافہ ، ماہرین نے اسرائیلی وزیراعظم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی Home / بین الاقوامی /

امریکا۔ایران مفاہمت نے نیتن یاہو تنہا، اسرائیلی قیادت کی سیاسی اور سفارتی مشکلات میں اضافہ ، ماہرین نے اسرائیلی وزیراعظم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایڈیٹر - 25/06/2026
امریکا۔ایران مفاہمت نے نیتن یاہو تنہا، اسرائیلی قیادت کی سیاسی اور سفارتی مشکلات میں اضافہ ، ماہرین نے اسرائیلی وزیراعظم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

واشنگٹن / تل ابیب: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت اور عارضی مفاہمتی اقدامات کے بعد بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی مستقبل کی سیاسی پوزیشن پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ متعدد سابق سفارت کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بدلتی صورتحال اسرائیلی قیادت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بن یامین نیتن یاہو طویل عرصے سے خود کو ایسی قیادت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جو واشنگٹن کی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ رابطوں اور سفارتی کوششوں نے خطے کی سیاسی حرکیات کو تبدیل کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی کوششوں کے بعد اسرائیلی حکومت کو نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی ترجیحات میں تبدیلی نے تل ابیب کی سفارتی حکمت عملی کو متاثر کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی قیادت نے ماضی میں ایران، حزب اللہ اور علاقائی سلامتی سے متعلق کئی اہداف کا اعلان کیا تھا، تاہم موجودہ حالات میں ان اہداف کے حصول پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سابق امریکی عہدیدار ڈینس راس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم داخلی سیاسی دباؤ اور امریکی پالیسی کے درمیان مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں کسی بھی بڑے فیصلے کے سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بن یامین نیتن یاہو کے سابق مشیر ابیب بشنسکی نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ پیش رفت اسرائیلی حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم حالیہ پریس کانفرنس میں بن یامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں اور دونوں ممالک کئی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات مستحکم ہیں اور دونوں ممالک خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل رابطے میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ اسرائیل کے اندر بعض حلقے سخت مؤقف اختیار کرنے کے حامی ہیں، جس کے باعث دونوں اتحادیوں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

بین الاقوامی بحرانی امور کے ماہر علی واعظ کے مطابق ایران امریکا اور اسرائیل کے درمیان پالیسی اختلافات سے سفارتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے، جبکہ خطے میں نئی صف بندیوں کے باعث اسرائیلی قیادت کو مزید سیاسی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ اسرائیل کی داخلی سیاست اور علاقائی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔