حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز پر نیا تنازع، ٹرمپ کا ایران پر بڑی رعایتوں کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کی سخت وارننگ Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز پر نیا تنازع، ٹرمپ کا ایران پر بڑی رعایتوں کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کی سخت وارننگ

ایڈیٹر - 25/06/2026
آبنائے ہرمز پر نیا تنازع، ٹرمپ کا ایران پر بڑی رعایتوں کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کی سخت وارننگ

واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکراتی عمل میں نمایاں رعایتیں دے رہا ہے اور امریکا اپنی پالیسی میں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔

سینیٹ روانگی سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کے حوالے سے صورتحال امریکا کے حق میں جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے بیان کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اس سے قبل امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات درست ثابت نہ ہوئیں تو مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے نہ ٹول ٹیکس لیا جائے گا، نہ انشورنس فیس وصول کی جائے گی اور نہ ہی کسی دوسری مد میں کوئی مالی مطالبہ کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کسی بھی قسم کے فنڈز جاری کرنے کی اطلاعات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران سے مشاورت کے بغیر کسی نئے بحری راستے یا گزرگاہ کے اعلان کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز سے محفوظ بحری آمدورفت صرف انہی راستوں کے ذریعے ممکن ہے جن کی نشاندہی اور منظوری ایران کی جانب سے دی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے، جبکہ مقررہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بیان بازی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے اور علاقائی سلامتی کے معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔