امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک جماعت کے سرکردہ رہنما چک شومر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی عوام کو صرف افراتفری، غیر یقینی صورتحال اور بھاری مالی بوجھ دیا۔
سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے چک شومر کا کہنا تھا کہ جنگ کے تسلسل کے ساتھ امریکی عوام پر مالی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا اور عوام کو ایک ایسی پالیسی کی قیمت ادا کرنا پڑی جسے انہوں نے ایک تاریخی غلطی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی نہ صرف امریکا بلکہ دنیا کی جدید تاریخ میں بدترین خارجہ پالیسی مہمات میں شمار کی جائے گی، کیونکہ اس کے نتیجے میں کوئی واضح مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔
ڈیموکریٹ رہنما نے الزام عائد کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کیے گئے بیشتر اہداف عملی طور پر حاصل نہیں کیے جا سکے، جبکہ انتظامیہ کے اہم عہدیدار عوام اور قانون سازوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
چک شومر نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ سمیت اعلیٰ حکام نے عوام کے سامنے آکر پالیسی کی وضاحت نہیں کی، جس کے باعث جنگ اور ممکنہ سمجھوتوں کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ معاہدے یا مفاہمت کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں لائی گئیں اور نہ ہی عوام کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے۔
چک شومر کے مطابق انتظامیہ ان تفصیلات کو منظرعام پر لانے سے اس لیے گریز کر رہی ہے کیونکہ اسے اپنی کارکردگی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈیموکریٹ رہنما نے زور دیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ان کے بقول یہ تنازع ابتدا ہی سے ایک غیر ضروری اور مہنگا فیصلہ تھا۔