ڈاکار: مغربی افریقہ کے اہم مسلم اکثریتی ملک سینیگال نے تعلیمی شعبے میں ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مقدس قرآن مجید کو ملک بھر کے تمام اسکولوں کے بنیادی اور لازمی نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس اہم اقدام کا مقصد طلبہ کو جدید علوم کے ساتھ ساتھ دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیگال کی حکومت نے قرآنِ کریم کی تعلیمات کو باقاعدہ اور سرکاری تعلیمی نظام میں مزید مؤثر اور جامع انداز میں شامل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ سینیگال افریقہ کا وہ خطہ ہے جہاں روایتی دینی مدارس اور حفظِ قرآن کو معاشرتی و ثقافتی طور پر پہلے ہی انتہائی خاص اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ حکومت کے اس نئے فیصلے کو ملک کے تمام دینی، علمی اور عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تعلیمی ماہرین اور دانشوروں کے مطابق سینیگال حکومت کے اس فیصلے کا بنیادی مقصد جدید دور کی سائنسی و دنیاوی تعلیم اور مستند اسلامی اقدار کے درمیان ایک مضبوط توازن اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، تاکہ نئی نسل اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت پر قائم رہتے ہوئے ترقی کر سکے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق نصاب میں اس نئی تبدیلی کے عملی نفاذ، اساتذہ کی تربیت اور طریقہ کار سے متعلق تفصیلی لائحہ عمل اور گائیڈ لائنز جلد ہی باقاعدہ طور پر جاری کی جائیں گی۔