کراچی: پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسیوں کے نرخ سرمایہ کاروں، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے جہاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے نسبتاً استحکام برقرار رکھا ہے، جبکہ خلیجی اور یورپی کرنسیوں کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
فاریکس مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق بین الاقوامی منظر نامے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مثبت اثرات مقامی کرنسی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جیو پولیٹیکل کشیدگی میں بتدریج کمی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ بڑی گراوٹ اور اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) میں تسلسل کے باعث روپے پر سفری و تجارتی دباؤ کافی حد تک محدود ہو گیا ہے۔ اسی سبب ڈالر سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے نرخ ایک مخصوص حد کے اندر ہی مستحکم دکھائی دے رہے ہیں۔
آج اوپن مارکیٹ میں خلیجی ممالک اور یورپ جانے والے مسافروں سمیت عمرہ زائرین کی جانب سے سعودی ریال اور اماراتی درہم کی مانگ مسلسل دیکھی گئی۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا موجودہ رجحان جاری رہا اور بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ بڑھنے نہ پایا، تو آنے والے دنوں میں ملکی روپے کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب درآمدی شعبہ اور مقامی کاروباری برادری ڈالر کی روزمرہ نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر مقامی مہنگائی اور درآمدی خام مال کی لاگت پر پڑتا ہے۔
Open Market Currency Rates (اہم کرنسیوں کے نرخ)