حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران جوہری پروگرام پر بڑی پیش رفت، اسحاق ڈار نے مذاکرات کے اہم نکات سے پردہ اٹھا دیا Home / بین الاقوامی /

ایران جوہری پروگرام پر بڑی پیش رفت، اسحاق ڈار نے مذاکرات کے اہم نکات سے پردہ اٹھا دیا

ایڈیٹر - 23/06/2026
ایران جوہری پروگرام پر بڑی پیش رفت، اسحاق ڈار نے مذاکرات کے اہم نکات سے پردہ اٹھا دیا

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل سے متعلق اہم تفصیلات سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کرنے کے بجائے اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ ابتدائی مراحل میں امریکا کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیئم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرے، تاہم بعد ازاں مختلف تجاویز پر غور کے نتیجے میں افزودگی کی سطح کم کرنے کا آپشن زیر بحث آیا۔

انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام، منجمد مالی اثاثوں اور لبنان کی صورتحال سمیت اہم معاملات پر تین الگ الگ تکنیکی ورکنگ گروپس کام کر رہے ہیں، جن کا مقصد مختلف نکات پر پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔

نائب وزیراعظم کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہاز آئندہ ساٹھ روز تک کسی اضافی ٹیرف کے بغیر سفر کر سکیں گے، تاہم بین الاقوامی نیوی گیشن کے معمول کے اخراجات اور سروس چارجز بدستور لاگو رہیں گے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کی براہِ راست نگرانی کی اور متعدد اہم مراحل میں ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات بھی ثالثی کی کوششوں میں معاونت کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی رابطے جاری ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا آئندہ مرحلہ نسبتاً مشکل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے، تاہم فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیر غور معاہدے میں کوئی ایسی شق شامل نہیں جو کسی فریق کے لیے نقصان دہ ہو، جبکہ تمام اقدامات کا مقصد خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔