اسلام آباد: پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے دنیا کو ایک بڑے ہولناک تنازع سے محفوظ کر لیا، ایران امریکہ معاہدے سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے باعث دنیا تیسری عالمی جنگ کی تباہی سے بچ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عالمی امن کے لیے جو تاریخی کردار ادا کیا ہے، وہ نوبل امن انعام سے بھی کہیں زیادہ بلند اور اہم ہے۔ صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نوبل کمیٹی خود فیصلہ کرے گی کہ یہ اعزاز کس کو ملنا چاہیے، تاہم پاکستانی قیادت کی امن کوششیں کسی دنیاوی مادی اعزاز کی محتاج نہیں ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے ایران اور امریکہ کے مابین حالیہ معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگی صورتحال کے خاتمے سے نہ صرف خطے میں پائیدار استحکام آئے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی زبردست فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ختم ہونے سے خطے میں توانائی کے معطل منصوبے دوبارہ فعال ہو سکیں گے۔ خصوصاً پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی سے پاکستان میں جاری شدید توانائی بحران پر قابو پایا جا سکے گا، جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی متوقع ہے۔
داخلی سیاست اور علاقائی امور پر گفتگو کرتے ہوئے مشیرِ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ منتخب قیادت ہی آزاد کشمیر کے مسائل کا حقیقی حل تلاش کرے گی اور پاکستان ان کے ہر فیصلے کی بھرپور تائید کرے گا۔
سیاسی مفاہمت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چوتھی مرتبہ براہِ راست اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز اپوزیشن رہنماؤں سے مثبت بات چیت ہوئی ہے اور امید ہے کہ وہ ملکی مفاد میں اس کا مثبت جواب دیں گے۔ وفاقی کابینہ میں ممکنہ ردو بدل کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تمام باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ وزیراعظم نے ابھی تک کابینہ میں کسی بھی قسم کے اضافے، کمی یا تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں دیا، تاہم یہ ان کا آئینی اختیار ہے کہ وہ جب چاہیں اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔