حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
غریب صوبے کے 109 ارب روپے وفاق کے حوالے کرنا کہاں کا انصاف ہے؟امیر حیدر خان ہوتی Home / سیاست /

غریب صوبے کے 109 ارب روپے وفاق کے حوالے کرنا کہاں کا انصاف ہے؟امیر حیدر خان ہوتی

ایڈیٹر - 21/06/2026
 غریب صوبے کے 109 ارب روپے وفاق کے حوالے کرنا کہاں کا انصاف ہے؟امیر حیدر خان ہوتی

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے صوبائی حکومت کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیے بغیر ہی صوبائی بجٹ پاس کر دیا۔ انہوں نے وفاق کو صوبے کے غریب عوام کے 109 ارب روپے خاموشی سے حوالے کرنے کے صوبائی فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ "109 ارب وفاق کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟"

رستم کے مختلف علاقوں میں شمولیتی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ عشقِ عمران میں مبتلا موجودہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت بالکل بے اختیار ہو چکے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت بھی اختیارات سے محروم نظر آتی ہے۔ انہوں نے صوبائی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یاد دلایا کہ جو لوگ یہ دعوے کر رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی اجازت کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہونے دیا جائے گا، انہوں نے ایک ملاقات تک کیے بغیر صوبے کا بجٹ منظور کروا لیا۔ اس موقع پر ضلعی جنرل سیکرٹری فضل الرحمن بن یامین، تحصیل صدر جہانگیر عالم، احمد علی خان، سہیل باچہ، رشاد خان اور عظیم شاہ نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کی خاص بات پی ٹی آئی کے دیرینہ رہنما اعظم خان کی اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف چھوڑ کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان تھا۔

سابق وزیر اعلیٰ نے صوبے کے دیرینہ اور سنگین مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت جنگ زدہ اور دہشت گردی سے شدید متاثرہ خطہ ہے، جہاں تعلیمی نظام مفلوج، صحت کا نظام غیر مؤثر اور تمام بڑے ترقیاتی منصوبے نامکمل پڑے ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال کے باعث کارخانے بند ہو رہے ہیں اور کوئی نیا سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے مقامی تجارت بالکل تباہ ہو چکی ہے۔ صوبے کو نہ تو اپنی بجلی مل رہی ہے اور نہ ہی اپنی گیس پر حق حاصل ہے، جس کے باعث وسائل کی شدید کمی پیدا ہو چکی ہے۔ امیر حیدر خان ہوتی نے انکشاف کیا کہ جو صوبہ پہلے ہی 100 ارب روپے سے زائد کا مقروض ہو چکا ہو اور جہاں کی پبلک یونیورسٹیوں کو چلانے کے لیے فنڈز تک موجود نہ ہوں، اس کے باوجود صوبے کے غریب عوام کے 109 ارب روپے وفاق کے حوالے کر دینا یہاں کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔