قومی اسمبلی کا حالیہ اجلاس اس وقت شدید بحث و تکرار کا مرکز بن گیا جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے ریاستی اداروں کے احترام کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن نے سرکاری میڈیا پر اپنی تقاریر کو سینسر اور بلیک آؤٹ کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔
قومی اسمبلی کے اہم اجلاس کے دوران مائیک پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیئر پارلیمنٹرین علی محمد خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک کی مسلح افواج اور اعلیٰ عدلیہ جیسے اہم ترین ریاستی اداروں پر کسی قسم کی تنقید نہیں ہونی چاہیے اور ان کا احترام برقرار رکھا جانا چاہیے۔ تاہم، اداروں کے دفاع کے ساتھ ساتھ انہوں نے حکومتی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شکوہ کیا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی اہم تقاریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی یہ مبینہ پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔ علی محمد خان کے اس موقف پر فوری جواب دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے اور ایوان میں کسی بھی رکن کی تقریر پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
اسی دوران تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی بحث میں حصہ لیتے ہوئے اسپیکر کے دعوے کو چیلنج کیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ لائیو سیشن کے دوران جان بوجھ کر ہماری تقاریر کے دوران مائیک بند کر دیے جاتے ہیں یا کوریج روک دی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر لائیو کوریج میں کوئی تکنیکی مجبوری ہے تو بے شک ہماری تقاریر بعد میں چلائی جائیں، لیکن عوامی نمائندوں کی آواز کو مکمل طور پر غائب نہ کیا جائے۔ اس اعتراض پر اسپیکر ایاز صادق نے پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ بطور اسپیکر انہیں قومی سلامتی (نیشنل سکیورٹی) سے متعلق حساس معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے اور پارلیمانی تقدس کے تحت ان امور کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اسپیکر کے اس ریمارکس پر بیرسٹر گوہر نے فوری جواب دیا کہ پی ٹی آئی ایک ذمہ دار سیاسی جماعت ہے اور ہم کبھی بھی قومی سلامتی یا ملکی مفادات کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے۔ اس پارلیمانی تعطل نے ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن کے مابین میڈیا سنسرشپ اور آزادی اظہارِ رائے کے دیرینہ تنازع کو ہوا دے دی ہے۔