اسلام آباد / جنیوا: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں اہم مذاکراتی ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، جنہیں خطے کی مستقبل کی صورتحال کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستانی قیادت اور اعلیٰ حکام کی مختلف ممالک سے مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اور ایرانی نمائندے بھی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جہاں خطے کی صورتحال، سکیورٹی معاملات اور سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت متعدد اہم حکام شامل ہیں، جبکہ امریکی نمائندوں کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کے حوالے سے مثبت بیانات سامنے آئے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی رابطوں سے بعض اہم معاملات میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے لبنان کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، سمندری تجارتی راستوں اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں ایران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں اور خطے کی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے مشہد میں اہم مذہبی مقامات پر بھی حاضری دی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے تسلسل کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں اور مختلف ممالک کے درمیان رابطے خطے کے مستقبل پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں، تاہم کسی بھی حتمی پیش رفت یا معاہدے کے حوالے سے متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ اعلانات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔