خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے لیے 519 ارب 10 کروڑ 39 لاکھ 10 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ مجموعی طور پر اے ڈی پی کا حجم 524 ارب روپے سے زائد تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق، صوبے کے مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
بجٹ دستاویزات کی تفصیلات کے مطابق، بندوبستی اضلاع کے لیے 427 ارب 18 کروڑ 27 لاکھ روپے جبکہ قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) کے لیے 39 ارب 63 کروڑ 72 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضم اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 52 ارب 28 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 2 ہزار 765 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جن میں سے 2 ہزار 70 منصوبے بندوبستی اضلاع اور 318 منصوبے ضم اضلاع سے متعلق ہیں۔ مزید برآں، تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے 377 منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
دستاویزات کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 1 ہزار 201 نئے ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ تمام منصوبوں کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار 448 ارب روپے درکار ہوں گے۔ ترقیاتی پروگرام کا تھرو فارورڈ 7.7 سال مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ میں سب سے زیادہ رقم سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے لیے مختص کی گئی ہے، جس کے لیے 39 ارب 49 کروڑ روپے کی تجویز ہے۔ شہری ترقی کے شعبے کے لیے 38 ارب 24 کروڑ روپے اور ملٹی سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 20 ارب 7 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
سماجی اور انتظامی شعبوں پر نظر ڈالیں تو محکمہ داخلہ کے لیے 20 ارب 17 کروڑ روپے، صحت کے شعبے کے لیے 16 ارب 33 کروڑ روپے اور صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے 10 ارب 31 کروڑ روپے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 7 ارب 25 کروڑ روپے، کھیل اور کھیل و سیاحت کے فروغ کے لیے 6 ارب 63 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بلدیات کے شعبے کے لیے 5 ارب 57 کروڑ روپے جبکہ زراعت کے شعبے کے لیے 5 ارب 23 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔