حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک میز پر، محسن نقوی بھی تہران روانہ، خطے میں بڑی سفارتی سرگرمی Home / بین الاقوامی /

امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک میز پر، محسن نقوی بھی تہران روانہ، خطے میں بڑی سفارتی سرگرمی

ایڈیٹر - 20/06/2026
امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک میز پر، محسن نقوی بھی تہران روانہ، خطے میں بڑی سفارتی سرگرمی

اسلام آباد / تہران / جنیوا: مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ نمائندے اہم مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔ اسی دوران پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی آج تہران کا اہم دورہ کریں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق محسن نقوی اپنے دورۂ ایران کے دوران ایرانی قیادت اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی موجودہ صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستانی وزیر داخلہ کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو متوقع ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ میں متوقع مذاکرات میں شرکت کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں خطے کی کشیدگی کم کرنے اور مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل پر بات چیت کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق لبنان کی صورتحال اور حالیہ جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، جبکہ مختلف ممالک خطے میں مستقل استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ واشنگٹن میں بعض حلقے خطے کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ امن عمل پر مختلف خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قیادت کے بعض ممکنہ فیصلے مستقبل کی سفارتی کوششوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ادھر سوئٹزرلینڈ میں متوقع مذاکرات کے حوالے سے سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقاتیں آئندہ چند ہفتوں میں خطے کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر جاری سفارتی رابطے کامیاب رہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

تاہم مختلف فریقین کی جانب سے اب تک کئی اہم معاملات پر محتاط مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں کو خطے کی سیاست کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔