حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خامنہ ای نے امریکا۔ایران یادداشت کی توثیق کر دی، قومی مفاد کو ترجیح قرار Home / بین الاقوامی /

خامنہ ای نے امریکا۔ایران یادداشت کی توثیق کر دی، قومی مفاد کو ترجیح قرار

ایڈیٹر - 19/06/2026
خامنہ ای نے امریکا۔ایران یادداشت کی توثیق کر دی، قومی مفاد کو ترجیح قرار

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی باضابطہ توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ قومی مفادات، سلامتی اور عوامی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

قوم سے اپنے خصوصی پیغام میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جس کے حصول کے لیے مذاکراتی ٹیموں نے طویل اور سنجیدہ کوششیں کیں۔

انہوں نے ایرانی عوام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم نے مشکل حالات میں استقامت، اتحاد اور وفاداری کا مظاہرہ کیا، جس کی بدولت یہ مرحلہ طے کرنا ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کامیابی کے لیے خدا کے حضور شکر گزار ہیں۔

سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ بعض معاملات پر ان کی ذاتی رائے مختلف تھی، تاہم قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین اور صدر کی جانب سے فراہم کی گئی یقین دہانیوں کے بعد انہوں نے معاہدے کی توثیق کا فیصلہ کیا۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق انہیں یہ اعتماد دلایا گیا تھا کہ ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق، مفادات اور قومی خودمختاری کے تحفظ کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا، اسی یقین کے تحت انہوں نے اس اقدام کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے خیرسگالی، علاقائی استحکام اور قومی مفاد کے حصول کے لیے بھرپور سفارتی کاوشیں کیں اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے متعدد عملی اقدامات اٹھائے گئے۔

سپریم لیڈر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران مختلف دباؤ اور حربے استعمال کیے گئے، تاہم ایران نے اپنے مؤقف اور اصولی موقف پر ثابت قدمی برقرار رکھی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پورے مذاکراتی مرحلے میں قومی مفادات کو اولین ترجیح دی گئی اور ہر فیصلہ اسی بنیاد پر کیا گیا۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل میں کسی بھی نئے مذاکرات یا سفارتی رابطے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوگا کہ ایران دوسرے فریق کے مؤقف یا مطالبات کو بغیر کسی شرط کے تسلیم کر لے گا، بلکہ تمام فیصلے قومی مفادات اور خودمختاری کے اصولوں کے مطابق کیے جائیں گے۔