پشاور: خیبرپختونخوا کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافی آراء سامنے آ گئی ہیں، جبکہ بعض رہنماؤں نے بجٹ پیش کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اہم مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے ناراض رہنما آج دوپہر دو بجے اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں بجٹ سے متعلق سیاسی اور پارلیمانی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
سابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نے کہا ہے کہ اجلاس میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ طے کیا جائے گا کہ بجٹ کے حوالے سے آئندہ لائحۂ عمل کیا ہونا چاہیے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے بغیر بجٹ پیش نہیں کیا جائے گا، تاہم اب اس موقف سے انحراف کیا جا رہا ہے، جس پر پارٹی کے اندر سوالات جنم لے رہے ہیں۔
مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ اگر بجٹ پیش کر دیا جاتا ہے تو وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقاتوں کے معاملے پر مطلوبہ سطح کا دباؤ بھی نہیں ڈالا جا رہا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بجٹ پیش کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی بجٹ ایک آئینی اور قانونی تقاضا ہے، جسے مقررہ وقت پر مکمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ کی منظوری کا معاملہ صوبائی حکومت کے انتظامی امور سے متعلق ہے اور اس کا وفاقی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بقول بجٹ کسی دباؤ یا وفاقی خواہش کے تحت نہیں بلکہ آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
پارٹی کے اندر سامنے آنے والے مختلف مؤقف کے باعث خیبرپختونخوا کے بجٹ اور اس سے متعلق سیاسی حکمت عملی پر بحث میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔