کراچی: قومی خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی ادارے نے ایل نینو کی سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر موسمی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں سمندری سطح کا درجہ حرارت معمول سے بلند ہو چکا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادارے کے مطابق بحرالکاہل میں درجہ حرارت میں یہ غیر معمولی اضافہ عالمی موسمی نظام میں تبدیلی کا سبب بن رہا ہے، جس کے نتیجے میں رواں سال مون سون اور سردیوں کے موسم کا معمول متاثر ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا، بھارت اور افریقا کے بعض علاقوں کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ جنوبی امریکا اور مشرقی افریقا کے مختلف خطوں میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایل نینو کے اثرات کے باعث پاکستان میں مون سون بارشوں کی شدت اور مقدار معمول سے کم رہ سکتی ہے، جبکہ سردیوں کے موسم میں درجہ حرارت نسبتاً زیادہ رہنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
سپارکو نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ بہار اور گرمیوں کے دوران شدید گرمی کی لہروں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس سے انسانی صحت، توانائی کی طلب اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ادارے کے مطابق موسمی تبدیلی کا یہ رجحان زرعی شعبے اور آبی ذخائر پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے، جس کے باعث فصلوں کی پیداوار، آبپاشی کے نظام اور پانی کی دستیابی سے متعلق نئے چیلنجز پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین نے متعلقہ اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ ممکنہ موسمی اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور احتیاطی اقدامات کو ترجیح دی جائے تاکہ زرعی اور آبی وسائل کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔