برمنگھم: خواتین کے عالمی ٹی ٹوئنٹی کپ میں پاکستان ویمنز ٹیم کو مسلسل دوسری ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں جنوبی افریقا نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی۔
میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنائے۔ قومی ٹیم کا آغاز توقعات کے مطابق نہ رہا اور ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے باعث بیٹنگ لائن مسلسل دباؤ میں رہی۔
پاکستانی اننگز میں کپتان فاطمہ ثنا نمایاں رہیں، جنہوں نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 38 گیندوں پر 55 رنز اسکور کیے۔ ان کی اننگز میں 6 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے، جس کی بدولت ٹیم ایک قابلِ مقابلہ مجموعہ ترتیب دینے میں کامیاب ہوئی۔
فاطمہ ثنا کے علاوہ طوبیٰ حسن نے 23 رنز بنا کر اہم معاونت فراہم کی، تاہم دیگر بیٹرز خاطر خواہ شراکت قائم نہ کر سکیں۔ قومی ٹیم کو ناقص رننگ کے باعث بھی نقصان اٹھانا پڑا اور 4 کھلاڑی رن آؤٹ ہو گئیں۔
127 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقا نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا، لیکن پاکستانی بولرز نے درمیانی اوورز میں عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے حریف ٹیم کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا۔
ایک مرحلے پر جنوبی افریقا کی 6 وکٹیں 107 رنز پر گر چکی تھیں اور میچ پاکستان کی گرفت میں دکھائی دے رہا تھا، تاہم ڈرکسن نے 52 اور ڈی کلرک نے 37 رنز کی اہم اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو فتح کے قریب پہنچا دیا۔
جنوبی افریقا نے مطلوبہ ہدف 17ویں اوور میں 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے میچ اپنے نام کر لیا۔
پاکستان کی جانب سے فاطمہ ثنا نے آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 وکٹیں بھی حاصل کیں، جبکہ سعدیہ اقبال اور طوبیٰ حسن نے 2، 2 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
یہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مسلسل دوسری شکست ہے۔ اس سے قبل قومی ٹیم اپنے افتتاحی میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کھا چکی ہے۔
پاکستان ویمنز ٹیم اب اپنا اگلا میچ ہفتے کے روز بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گی، جہاں سیمی فائنل کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے کامیابی انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔