پشاور: فیز 6 حیات آباد کے رہائشیوں، دکان مالکان اور تاجر برادری نے نواب مارکیٹ کے قریب قائم نام نہاد "سستا بازار" کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بازار نہ صرف علاقے کے حسن اور شہری ماحول کو متاثر کر رہا ہے بلکہ مقامی تاجروں کے معاشی استحصال کا بھی باعث بن رہا ہے۔
تاجروں کے مطابق بنگش مارکیٹ، نواب مارکیٹ اور ابراہیم مارکیٹ میں پی ڈی اے کے زیر انتظام باقاعدہ دکانیں اور منظم تجارتی مراکز موجود ہیں، جہاں دکاندار بھاری کرایے، بجلی کے بل، ٹیکس اور دیگر سرکاری واجبات باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مذکورہ غیر منظم بازار میں کاروبار کرنے والے افراد کسی واضح ضابطے کے بغیر تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے مستقل دکانداروں کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بازار روز بروز پھیلتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ٹریفک مسائل، صفائی ستھرائی کی خراب صورتحال اور شہری نظم و ضبط میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ مزید برآں، رات کے اوقات میں یہی جگہ نشئی افراد کی آماجگاہ بن جاتی ہے، جو معاشرتی امن اور نوجوان نسل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
رہائشیوں اور تاجروں نے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی اور غیر منظم بازار کا فوری جائزہ لے کر اسے ختم کیا جائے اور مذکورہ پلاٹ کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال میں لایا جائے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اس جگہ پر شجرکاری کی جائے، درخت اور پھول لگائے جائیں اور ایک خوبصورت گرین ایریا یا چھوٹا عوامی پارک قائم کیا جائے تاکہ بزرگ شہری، خواتین اور بچے پرسکون ماحول میں چہل قدمی اور تفریح کی سہولت حاصل کر سکیں۔
فیز 6 حیات آباد کے رہائشیوں اور تاجروں نے امید ظاہر کی کہ پی ڈی اے شہری مفاد، کاروباری انصاف اور علاقے کے حسن کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے گا۔
جاری کردہ: حیات آباد ویلفئر سوسائٹی ، رہائشی (جنرل پبلک) فیز6، دکان مالکان اور تاجر برادری نواب مارکیٹ، بنگش مارکیٹ اور ابراہیم مارکیٹ فیز 6، حیات آباد، پشاور