تل ابیب: اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اوہمر ٹشلر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل ہونے کے باوجود کارروائی روانگی سے صرف ایک گھنٹہ قبل منسوخ کر دی گئی تھی۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جنرل اوہمر ٹشلر نے فضائیہ کے اہلکاروں کو اپنے پیغام میں بتایا کہ 8 جون کو اسرائیلی فضائیہ ایران کے اندر سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی اور مختلف اسکواڈرنز کو بریفنگ بھی دی جا چکی تھی، تاہم آخری لمحات میں آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے خلاف تقریباً 1500 کلومیٹر دور تک کارروائیاں کیں، جن میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق پہلے مرحلے میں مغربی اور وسطی ایران میں فضائی دفاع کے نو نظاموں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں جنوب مغربی ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں قائم تین فیکٹریوں پر حملے کیے گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ تنصیبات میزائل پروگرام کے لیے خام مال کی فراہمی میں استعمال ہو رہی تھیں۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے جنگ کا دائرہ مزید وسیع کیا تو اسے اس محاذ پر تنہا بھی ہونا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کئی بار رابطے ہوئے۔ نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کے حامی تھے، جبکہ امریکی صدر جنگ بندی اور سفارتی حل کو ترجیح دیتے رہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی منظوری دے دی تھی، تاہم بعد ازاں امریکی صدر کی فون کال کے بعد کارروائی روک دی گئی اور جنگی طیاروں کی روانگی سے قبل ہی حملہ منسوخ کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب لبنان میں ایران نواز گروپ حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے گئے، جس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں کارروائیاں کیں اور بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
بعد میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد خطے میں تناؤ میں نسبتی کمی دیکھی گئی، تاہم صورتحال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی۔