پشاور: پشاور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ٹک ٹاک ایپ پر غیراخلاقی اور بیہودہ مواد کی تشہیر کے خلاف دائر کردہ ایک آئینی رٹ پٹیشن پر تفصیلی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر بابر شہزاد عمران نے موقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ہونے والی بے ہودہ ویڈیوز سے معاشرے میں سنگین بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ پی ٹی اے نے ماضی میں 'فائر وال' کی مدد سے فحش مواد کو فلٹر کرنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر حقیقت میں کروڑوں کی تعداد میں ایسا مواد تاحال سوشل میڈیا پر سرعام دستیاب ہے، جو نئی نسل کو تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید انتباہ کیا کہ اگر حکومت نے اس بگاڑ کو فائنل کنٹرول نہ کیا تو شدید عوامی ردعمل کے باعث لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
کیس کی سماعت کے دوران پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے انتہائی سخت اور کلیدی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سیاسی نوعیت کی پوسٹ انٹرنیٹ پر شیئر کی جائے اور حکومت اسے ہٹانا چاہے تو وہ فوری طور پر منٹوں میں بلاک کر دی جاتی ہے، تو پھر معاشرے کو اخلاقی طور پر نقصان پہنچانے والی ویڈیوز اور اکاؤنٹس کو بلاک کرنے میں پی ٹی اے کو کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں؟ عدالت نے ڈیجیٹل ریگولیشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا کہ جب ایک بار کوئی چیز سرچ کی جائے تو الگورتھم کے تحت اسی نوعیت کی مزید ویڈیوز سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں، جسے مستقل بنیادوں پر روکنا ناگزیر ہے۔
سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے وکیل جہانزیب محسود نے عدالت عالیہ کو ایک بڑی قانونی تبدیلی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں سوشل میڈیا کو مانیٹر اور کنٹرول کرنے کے لیے پیکا (PECA) ترمیمی ایکٹ کے تحت اب ایک بالکل الگ اور خود مختار باڈی ’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ قائم کر دی گئی ہے، اور اب یہ تمام ڈیجیٹل اور آن لائن مواد کی نگرانی اسی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کی استدعا پر پی ٹی اے کے ساتھ ساتھ اس نئی نوٹیفائیڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی باقاعدہ کیس میں فریق بناتے ہوئے اگلی سماعت پر ان سے تفصیلی اور جامع پیش رفت رپورٹ طلب کر لی ہے اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی ہے۔