لندن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان متوقع تاریخی معاہدے میں ایران کی معیشت کی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے نجی سرمایہ کاری فنڈ کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ 150 ارب ڈالر سے زائد کی ابتدائی سرمایہ کاری کی یقین دہانی پہلے ہی کرائی جا چکی ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ فنڈ کا بنیادی مقصد ایران کے توانائی، لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور ملکی معیشت کو دوبارہ عالمی اقتصادی نظام سے جوڑنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے بعد ایران کو تیل اور دیگر ایندھن کی برآمدات بحال کرنے کی اجازت ملنے کا امکان ہے، جس سے نہ صرف ایرانی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت ایران فوری طور پر تیل اور ایندھن کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہو سکتا ہے، جبکہ بینکاری، ٹرانسپورٹ اور انشورنس کے شعبوں پر عائد بعض پابندیوں میں بھی نرمی متوقع ہے۔
تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندیوں میں ممکنہ رعایت اور اقتصادی سہولیات ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط اور ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہوں گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف ایران کی اقتصادی بحالی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں اقتصادی اور سیاسی صورتحال پر بھی دور رس اثرات مرتب کرے گا۔