پشاور : خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور بڑا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں صوبے بھر میں 3500 سے زائد سرکاری اساتذہ نجی اسکولوں کے مالکان یا ان میں شراکت دار (پارٹنرز) پائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے مرتب کی گئی انتہائی خفیہ اور تفصیلی رپورٹ صوبائی حکومت کو باقاعدہ طور پر ارسال کر دی گئی ہے جس کے بعد محکمہ تعلیم میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ان نجی تعلیمی اداروں کی اکثریت ذاتی ملکیت یا قریبی شراکت داری کی بنیاد پر چلائی جا رہی ہے۔ صوبائی اعداد و شمار کے مطابق اس غیر قانونی نیٹ ورک میں ملاکنڈ ڈویژن سب سے پہلے نمبر پر ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ نجی اسکولوں کے مالکان سرکاری اساتذہ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ سرکاری اساتذہ نجی تعلیمی اداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج اور دیگر سرکاری امتحانی عمل پر بھی مبینہ طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایت پر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران، پشاور سمیت دیگر اضلاع کے تعلیمی حکام اور "کے پی ایس آر اے" (KP-PSRA) کی مدد سے ان تمام نجی اسکولوں کی جامع اسکریننگ کی گئی تھی۔ اس جانچ پڑتال کے دوران نہ صرف ان اسکولوں کے مالکان کی نشاندہی ہوئی بلکہ ان نجی اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ مزید برآں، محکمہ تعلیم کے دیگر سرکاری افسران کی ایک متوازی فہرست بھی مرتب کی جا رہی ہے جن کے اپنے بچے سرکاری اسکولوں کے بجائے نجی اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جس سے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔