سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں افغانستان کا سفارت خانہ، جو اب طالبان حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے، بدانتظامی، عملے کی غیر حاضری اور سفارش کے کلچر کے الزامات کی زد میں آ گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شئیر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بڑی تعداد میں افغان شہری مختلف قونصلر خدمات کے لیے گھنٹوں انتظار کر رہے ہیں، جبکہ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کا عملہ مقررہ وقت پر اپنی ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتا اور ساتھ میں فیس بھی بڑھا دی۔
افغان شہریوں کے مطابق ضروری دستاویزات اور سرکاری امور کے حصول میں مشکلات بڑھ گئی ہیں، جس سے بیرونِ ملک مقیم افغانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے ان کے مستقبل اور سرکاری خدمات تک رسائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔