موجودہ دور میں تقریباً تمام اسمارٹ فونز میں لیتھیم آئیون بیٹریز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی اب انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ تاہم، اسمارٹ فونز کی چارجنگ اور بیٹری لائف کے حوالے سے صارفین میں متعدد غلط فہمیاں پاتی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے عام غلط فہمی یہ ہے کہ چارجنگ کے دوران فون کا استعمال ڈیوائس اور بیٹری کو مستقل طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس حوالے سے تفصیلی سائنسی حقائق سامنے لا کر صارفین کی پریشانی کو دور کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون کی بیٹری لائف متعدد وجوہات جیسے حرارت، عمر اور چارجنگ کی عادات کے باعث متاثر ہوتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ چارجنگ کے دوران فون کو استعمال کرنے کی عادت کو اکثر لاپرواہی قرار دیا جاتا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ اس سے بیٹری خراب ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ چارجنگ کے وقت فون استعمال کرنے سے چارجنگ کا عمل سست ضرور ہو جاتا ہے کیونکہ ڈیوائس چارجنگ اور ڈس چارجنگ کے درمیان تقسیم ہو جاتی ہے، لیکن جب تک فون بہت زیادہ گرم نہ ہو، بیٹری کی مجموعی زندگی پر کوئی برے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین چارجنگ کے دوران فون کو بلا خوف و خطر استعمال کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ بھاری ٹاسک (Heavy Tasks) انجام نہ دے رہے ہوں تاکہ ڈیوائس کو زیادہ پروسیسنگ پاور استعمال نہ کرنی پڑے۔ مثال کے طور پر چارجنگ کے دوران ای میلز یا میسجز چیک کرنا، موسیقی سننا، نوٹس لکھنا، سوشل میڈیا اسکرولنگ یا عام انٹرنیٹ براؤزنگ کرنے سے فون کی بیٹری پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔
البتہ، ماہرین نے صارفین کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ چارجنگ کے دوران موبائل گیمز کھیلنے، 4K ویڈیو اسٹریمنگ کرنے یا ہائی ڈیفینیشن ویڈیو ریکارڈنگ کرنے سے مکمل گریز کیا جائے۔ ان بھاری کاموں کے دوران پروسیسر پر دباؤ پڑتا ہے جس سے فون کے اندر بہت زیادہ حرارت خارج ہوتی ہے۔ یہی وہ حرارت ہے جو بیٹری کی تنزلی کا عمل تیز کرتی ہے، اس کی چارجنگ گنجائش کو گھٹا دیتی ہے اور بیٹری کی اندرونی ساخت کو مستقل نقصان پہنچاتی ہے۔