خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے قریب پاک فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ معمول کی پرواز کے دوران المناک حادثے کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے دو نوجوان افسران جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے حادثے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے شہداء کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پاک فضائیہ کا طیارہ آج اپنی معمول کی تربیتی پرواز پر تھا کہ مردان کے فضائی حدود میں تکنیکی یا ناگزیر وجوہات کی بنا پر حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس افسوسناک واقعے میں پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طہٰ عباسی شہید ہو گئے ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو قریبی فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس قومی سانحے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سروسز چیفس اور مسلح افواج کے تمام رینکس کے افسران و جوانوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عسکری قیادت نے شہداء کی وطن کے لیے گرانقدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ قیادت کا کہنا تھا کہ وطنِ عزیز کے یہ ہیرو ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق طیارہ گرنے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کے لیے فضائیہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک اعلیٰ سطح کا بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے، جو واقعے کی تمام تکنیکی پہلوؤں سے تحقیقات مکمل کر کے جلد رپورٹ پیش کرے گا۔