خیبر پختونخوا حکومت کا سخت ترین فیصلہ: طویل غیر حاضری پر 400 سے زائد سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برخاست کرنے کا حکم
پشاور (نیوز رپورٹر، حسبان میڈیا):
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں گورننس کے نظام کو بہتر بنانے اور محکموں سے غیر حاضر ملازمین کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور سخت ترین انتظامی فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر درجنوں پرائمری اساتذہ سمیت 400 سے زائد سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس اہم فیصلے کو حتمی شکل دیتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی منظوری کے بعد رواں ہفتے ہی مختلف متعلقہ محکموں کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق مجوزہ برطرف ملازمین کی لسٹ میں بڑی تعداد میں ایسے پرائمری اساتذہ اور دیگر عملہ شامل ہے جو طویل ترین غیر حاضری پر باقاعدہ شوکاز نوٹسز جاری کیے جانے کے باوجود اب تک جواب دینے میں ناکام رہے ہیں۔ تحقیقاتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فارغ کیے جانے والے ملازمین میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بغیر کسی پیشگی اجازت اور این او سی (NOC) کے طویل عرصے سے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور وہاں مختلف روزگار سے وابستہ ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ملازمین میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو بغیر محکمانہ اجازت کے بیرونی ممالک منتقل ہو گئے یا پھر صوبائی حکومت کو بتائے بغیر دیگر وفاقی محکموں میں ملازمتیں اختیار کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے تاحال صوبائی محکموں سے باقاعدہ استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ حکام کے مطابق ان تمام ملازمین کو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے شوکاز نوٹسز دیے گئے تھے، لیکن مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اب ان کے خلاف باقاعدہ عملی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اس کریک ڈاؤن کے پہلے مرحلے میں طویل غیر حاضر ملازمین کو ملازمت سے مستقل طور پر برخاست کیا جائے گا۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں ان کی سہولت کاری کرنے والے یا دیگر غیر حاضر ملازمین کو بھی معطل اور برطرف کیا جائے گا تاکہ صوبے کے تمام سرکاری محکموں میں حاضری اور ڈیوٹی کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔