عالمی سفارت کاری کا بڑا معرکہ: امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا، تمام محاذوں پر جنگ بندی کا اعلان
بین الاقوامی سفارت کاری اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک طویل عرصے بعد انتہائی بڑی اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور انتہائی اہم مذاکرات کے بعد بالآخر ایک جامع امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس تاریخی پیش رفت کا اعلان وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک خصوصی پیغام میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امن معاہدے پر باقاعدہ دستخطوں کی باوقار تقریب رواں ماہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد کی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس تزویراتی امن معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے تمام محاذوں پر اپنی تمام تر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے کے دائرہ کار میں لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے تمام فعال محاذ شامل ہیں، جہاں اب ہر قسم کی عسکری سرگرمیاں فوری طور پر روک دی جائیں گی، جس سے خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
اپنے بیان میں وزیراعظم نے اس تاریخی امن معاہدے کے لیے پسِ پردہ مخلصانہ کوششیں کرنے والے برادر ممالک قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے سفارتی کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان ثالث ممالک کی انتھک محنت کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔ وزیراعظم نے مزید انکشاف کیا کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے یہ ممالک رواں ہفتے متعدد اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں معاہدے پر باقاعدہ عملدرآمد شروع ہونے سے قبل تمام تیکنیکی امور اور ضوابط پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیچیدہ عالمی تنازع کے پرامن اور سفارتی حل پر آمادگی ظاہر کرنے پر امریکہ اور ایران کی قیادت کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا بالخصوص مسلم امہ کے امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔