واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان متوقع امن معاہدے کے اعلان نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں اور مجوزہ معاہدے پر شدید تحفظات اور شکوک کا اظہار کیا ہے۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے، تاہم امریکی عوام اس قسم کے دعوے پہلے بھی سن چکے ہیں اور ان کے ساتھ کئی نامکمل وعدے بھی دیکھ چکے ہیں۔
ایڈم شف کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے نئی جنگوں کا آغاز تو کیا، لیکن اخراجات میں کمی لانے کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے نتیجے میں امریکی عوام کو بھاری مالی اور انسانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کے رکن سیتھ مولٹن نے بھی مجوزہ امریکا-ایران معاہدے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "ہتھیار ڈالنے کی دستاویز" قرار دیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی کامیابی کے بجائے ایران کے سامنے امریکی پسپائی کی علامت دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 100 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ 14 امریکی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان کے بقول اگر معاہدے کے نتیجے میں صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے، جو جنگ سے قبل بھی کھلی ہوئی تھی، تو پھر اسے کامیابی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر اتوار کے روز دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدہ طے پاتے ہی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحال کر دیا جائے گا اور خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں رہا اور نہ ہی وہ مستقبل میں ان ہتھیاروں کی تیاری، خریداری یا کسی اور ذریعے سے حصول کی کوشش کر سکے گا۔
تاہم ڈیموکریٹ رہنماؤں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے اس مجوزہ معاہدے کی افادیت اور اس کے ممکنہ نتائج پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ معاہدہ واقعی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا باعث بنے گا یا امریکی سیاست میں مزید اختلافات کو جنم دے گا۔