حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
فنانس بل 2026-27: 650 ارب کے اضافی ٹیکس اقدامات، اشیائے خورونوش اور لگژری مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان Home / پاکستان /

فنانس بل 2026-27: 650 ارب کے اضافی ٹیکس اقدامات، اشیائے خورونوش اور لگژری مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان

ایڈیٹر - 13/06/2026
فنانس بل 2026-27: 650 ارب کے اضافی ٹیکس اقدامات، اشیائے خورونوش اور لگژری مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فنانس بل 2026-27 کا حتمی مسودہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت آئندہ مالی سال میں 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مجوزہ اصلاحات کے نتیجے میں متعدد اشیائے خورونوش، لگژری گاڑیاں، جائیداد اور کاروباری شعبے نئے ٹیکس دائرے میں آ سکتے ہیں۔

فنانس بل کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس ہدف کے حصول کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

مجوزہ تجاویز میں ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی بڑی تعداد میں اشیائے خورونوش کو 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں دودھ، بچوں کا فارمولا دودھ، ڈیری مصنوعات، جوسز، جام، مختلف مشروبات، گھی، خوردنی تیل، مٹھائیاں، پاستا اور مختلف ساسز شامل ہیں۔

اسی طرح زرعی ادویات، جراثیم کش کیمیکلز، پلاسٹک سے بنی گھریلو اشیا، کچن ویئر، کراکری اور اسٹوریج آئٹمز بھی مہنگے ہونے کا امکان ہے۔ بیگز، ہینڈ بیگز، سوٹ کیس، جوتے اور سفری سامان کو بھی سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ باتھ روم فٹنگز اور دیگر سینٹری سامان پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی سفارش شامل ہے۔

گاڑیوں کے شعبے میں بھی سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن کے مطابق 2 کروڑ سے 3 کروڑ روپے مالیت کی لگژری ایس یو ویز پر 30 فیصد جبکہ 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

پراپرٹی سیکٹر میں نئی شرط کے تحت 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے والوں کو اپنے ذرائع آمدن ثابت کرنا ہوں گے۔ آمدن کا ثبوت نہ دینے کی صورت میں ایسی خریداری کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ نان فائلرز کے لیے اضافی ٹیکس برقرار رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جو یکم جولائی 2026 سے نافذ ہو سکتی ہے۔

کاروباری شعبے کے لیے بھی نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں غیر رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر 5 فیصد ٹیکس، ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ اور کمرشل امپورٹرز پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش شامل ہے۔

دوسری جانب بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے بزنس کلاس ٹکٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت امریکا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے لیے ٹیکس شرح میں واضح کمی کی سفارش شامل ہے۔

فنانس بل میں قابل تجدید توانائی کے شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے سولر پینلز پر کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کی تجویز شامل نہیں کی گئی، جس سے اس شعبے میں قیمتوں کے استحکام کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔