حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا۔ایران امن معاہدہ قریب، شہباز شریف کا بڑا اعلان Home / پاکستان /

امریکا۔ایران امن معاہدہ قریب، شہباز شریف کا بڑا اعلان

ایڈیٹر - 13/06/2026
امریکا۔ایران امن معاہدہ قریب، شہباز شریف کا بڑا اعلان

سلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے حوالے سے بنیادی اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے اور اب فریقین کے ساتھ مل کر حتمی مراحل کو مکمل کرنے پر کام جاری ہے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور امن معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بھی ذکر کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں سے آگاہ ہیں، تاہم ایسے عناصر اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران ماضی کے مقابلے میں اس وقت امن معاہدے کے سب سے قریب ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم آئندہ چند روز میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق اہم سفارتی سرگرمیوں میں شرکت متوقع ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد بھی ان کے ہمراہ ہوگا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت حتمی مراحل کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم معاہدے کی تکمیل سے قبل اس کی شقوں سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق تمام معاملات طے پانے کے بعد معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

عباس عراقچی کا یہ بیان بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا گیا، جس کے بعد مجوزہ معاہدے سے متعلق قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہوا۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان زیر غور مفاہمتی مسودہ 14 نکات پر مشتمل ہے، جس میں پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور دیگر اہم امور شامل ہیں۔ تاہم ایرانی حکام واضح کر چکے ہیں کہ دستاویز ابھی حتمی منظوری کے مراحل سے گزر رہی ہے اور اس میں مزید تبدیلیاں بھی ممکن ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت میں پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ رواں برس دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے ہونے والی کوششوں میں اسلام آباد نے ثالث کا کردار نبھایا، جس کے نتیجے میں متعدد براہ راست اور بالواسطہ مذاکراتی ادوار بھی منعقد ہوئے تھے۔