ابوظہبی: ایران کے منجمد اثاثوں کی ممکنہ رہائی سے متعلق بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والی خبروں پر متحدہ عرب امارات نے سخت ردعمل دیتے ہوئے تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات ایران کے منجمد فنڈز میں سے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس رقم میں سے 3 ارب ڈالر پہلے ہی ایران کو منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی رقم مرحلہ وار جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کی جانب سے مبینہ سکیورٹی خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، تاہم اس حوالے سے کسی باضابطہ معاہدے یا مالیاتی طریقہ کار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ان اطلاعات کی واضح تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کی رقم منتقل نہیں کی گئی اور نہ ہی منجمد فنڈز کے اجرا سے متعلق کوئی اقدام کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بعض عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایران کو 3 ارب ڈالر منتقل کیے جانے سمیت مالی رقوم کی منتقلی سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس حقائق کے منافی اور مکمل طور پر غلط ہیں۔
بیان کے مطابق ایران کے کسی منجمد اثاثے کو نہ تو جاری کیا گیا ہے، نہ منتقل کیا گیا ہے اور نہ ہی متحدہ عرب امارات نے اس حوالے سے کسی قسم کی سہولت فراہم کی ہے۔
اماراتی حکام نے مزید واضح کیا کہ ایران کے منجمد فنڈز سے متعلق گردش کرنے والی تمام اطلاعات بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی حقیقت موجود نہیں۔
وزارت خارجہ نے ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ حساس بین الاقوامی معاملات پر رپورٹنگ کے دوران تصدیق شدہ معلومات اور سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے اور غیر مصدقہ دعوؤں کی اشاعت سے گریز کیا جائے۔