اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرمایہ کاری، برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم ٹیکس رعایتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جائیداد کے شعبے، برآمدی صنعت، ٹیکنالوجی سیکٹر اور بیرونِ ملک مالی لین دین سے متعلق کئی ٹیکسوں میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا مقصد معیشت میں نئی سرمایہ کاری لانا، کاروباری اعتماد بحال کرنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے، اسی لیے مختلف شعبوں کے لیے ٹیکس نظام کو آسان اور سرمایہ کار دوست بنایا جا رہا ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق جائیداد خریدنے والے ٹیکس فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح نصف کر کے 2.5 فیصد سے 1.25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ جائیداد فروخت کرنے والے فائلرز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے تعمیرات اور پراپرٹی کے شعبے میں نئی سرگرمیاں جنم لیں گی۔
ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے آئی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن پر رعایتی ٹیکس شرح 2029 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق یہ اقدام ملکی ٹیکنالوجی صنعت کی مسلسل ترقی اور عالمی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔
برآمدی شعبے کو سہارا دینے کے لیے حکومت نے برآمدات پر عائد ایڈوانس انکم ٹیکس میں بھی کمی کی تجویز دی ہے۔ نئی شرح کے تحت یہ ٹیکس 2 فیصد سے کم ہو کر 1.25 فیصد رہ جائے گا، جس سے برآمد کنندگان کے مالی بوجھ میں کمی آئے گی۔
بجٹ میں بیرونِ ملک ادائیگیوں اور خریداریوں کے حوالے سے بھی اہم ریلیف شامل کیا گیا ہے۔ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے غیر ملکی لین دین پر عائد ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بیرونِ ملک اثاثوں پر لاگو کیپیٹل ویلیو ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومت نے چھوٹے تاجروں اور ریٹیل کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے ایک آسان فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور کاروباری طبقے کے لیے ٹیکس ادائیگی کا عمل سہل بنانا ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق یہ تمام اقدامات سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور پائیدار اقتصادی نمو کے حصول کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جبکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔