حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سوشل میڈیا آمدن پر نیا ٹیکس، دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص Home / پاکستان /

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سوشل میڈیا آمدن پر نیا ٹیکس، دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص

ایڈیٹر - 13/06/2026
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سوشل میڈیا آمدن پر نیا ٹیکس، دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے، جبکہ سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر نئے ٹیکس سمیت متعدد اہم تجاویز شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جہاں اپوزیشن ارکان نے بجٹ تقریر کے دوران احتجاج اور نعرے بازی بھی کی۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق مجموعی ترقیاتی اخراجات کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے جبکہ وفاقی عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی دفاع کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کے لیے متعدد ٹیکس سلیبز میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 25 سے 30 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر آمدنی کے درجات میں بھی نمایاں کمی تجویز کی گئی ہے۔ گزشتہ سال عائد اضافی سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

حکومت نے پہلی بار ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں اور سوشل میڈیا شخصیات کی آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی آمدن پر بینک اور مالیاتی ادارے رقم کی منتقلی کے وقت ٹیکس وصول کریں گے۔

بجٹ میں خواتین کے سینیٹری پیڈز اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مانع حمل اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بیرون ملک آن لائن خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی نمایاں کمی تجویز کی گئی ہے۔

گاڑیوں کے شعبے میں 2 ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں اور مہنگی برقی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد یا بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں، جبکہ برقی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجود مراعات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بجلی سبسڈی کے لیے 830 ارب روپے مختص کرنے، گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے 252 ارب روپے رکھنے اور بعض شعبوں میں سبسڈی کے نظام میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ پیٹرولیم شعبے کے لیے سبسڈی آئندہ مالی سال میں ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے اور وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ 6 شعبوں کے لیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے اور جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال میں معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد، اوسط افراط زر 8.2 فیصد اور بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف معیشت کو مستحکم بناتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔