نئی دہلی: خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں کے بڑھتے واقعات کے بعد بھارت نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو ایک بار پھر وزارتِ خارجہ طلب کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران بھارتی عملے کے حامل متعدد تجارتی جہازوں کو مختلف حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں جانی نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ ترین واقعہ جمعرات کی رات پیش آیا، جب عمان کی شیناس بندرگاہ کے قریب ایک ٹینکر پر حملہ کیا گیا۔ مذکورہ جہاز پر بھارتی عملے کے ارکان بھی موجود تھے۔ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے حملوں میں ایک واقعے کے دوران تین بھارتی ملاح ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر واقعات میں کئی افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ خلیجِ عمان میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جو مبینہ طور پر ایران سے تیل لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق جہاز کو مکمل تباہ کرنے کے بجائے اسے غیر فعال بنایا گیا تاکہ وہ اپنی سرگرمی جاری نہ رکھ سکے۔
بھارتی حکام نے خطے میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے خلیجی پانیوں میں بحری سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان کے اطراف درجنوں بھارتی جہاز موجود ہیں، جن پر سینکڑوں بھارتی ملاح خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خطے میں حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث بھارت نے اپنے بحری عملے کے لیے نئی حفاظتی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔
سفارتی اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق مسلسل حملوں کے واقعات نے نہ صرف علاقائی بحری سلامتی کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی تجارتی راستوں پر بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔