جنیوا: ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان جنیوا میں ممکنہ ملاقات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے نمائندوں کے درمیان ملاقات کے امکانات موجود ہیں، جس کے دوران زیرِ التوا معاملات پر پیش رفت اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی قانونی ٹیم نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ اگر مذاکراتی عمل میں بیرونی رکاوٹیں پیدا نہ کی گئیں تو فریقین کے درمیان مثبت پیش رفت ممکن ہے۔ ٹیم کے مطابق ماضی کے تجربات کی بنیاد پر بعض حلقوں کی جانب سے مذاکرات کو متاثر کرنے کی کوششوں کے خدشات موجود ہیں، تاہم سفارتی رابطے جاری ہیں۔
ذرائع نے معاہدے کی ممکنہ تفصیلات سے متعلق سوالات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، البتہ اس بات کا اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے باعث حتمی نتائج کے بارے میں کوئی پیشگی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر رواں ہفتے کے اختتام تک دستخط ہو سکتے ہیں اور اس مقصد کے لیے یورپ میں ایک تقریب متوقع ہے، تاہم انہوں نے مقام کی تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔
دریں اثنا، عرب ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا پاکستان کا دورہ بھی متوقع ہے، جسے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق جنیوا میں ممکنہ ملاقات آئندہ دنوں میں ایران اور امریکا کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔